روزوں کی حفاظت کیجئے
روزوں کی حفاظت کیجئے
تحریر: وسیم احمد سنابلی مدنی ، نئی دہلی
دنیا میں جو اعمال اور سرگرمیاں انجام دی جاتی ہیں ان کے پیچھے ضرور کوئی نہ کوئی مقصد کارفرما ہوتا ہے ۔اگر ان اعمال سےمطلوب و مقصود پورا نہ ہو تو ان کا کوئی اعتبار نہیں ہوتا۔ ایک کسان اپنے کھیت میں دن و رات محنت کرتا ہے اس میں ہل چلاتا ہے،بیج اور کھاد ڈالتا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ پیداوار کا حصول ممکن ہوسکے۔ لیکن فصل کاٹتے وقت اسے مٹھی بھر غلہ نہ مل سکے تواس کی ساری جدوجہد ضائع اور برباد شمار کی جاتی ہے۔ایک طالب علم سال بھر پڑھنے لکھنے میں خوب محنت کر تا ہے، اس کےلئے شب بیداری کرتا ہے مگر جب امتحان آئے اور وہ فیل ہو جائے تو اس کی ساری جدوجہد اور محنت اکارت وبے سود قراردی جاتیہے۔ ایک مسافر سفر کی مشقتوں کو برداشت کرتے ہوئے گھر سے نکلتا ہے مگر وہ راستہ بھٹک جاتا ہے اور منزل مقصود تک نہیں پہنچپاتا، تو اس کا یہ سفر ایک سعی لاحاصل کے سوا کچھ بھی نہیں۔ اسی طرح روزے کا بھی معاملہ ہے، اس عبادت کی انجام دہی کےلیے ہم صبح صادق سے لے کر غروب آفتاب تک کھانے پینے، جنسی خواہشات اور تمام نواقض صوم سے اپنے آپ کو دور رکھتے ہیں۔اس صبرآزما عبادت کے پیچھے بھی ایک عظیم مقصد کارفرما ہے جس کا ذکر اللہ تعالی نے ان الفاظ میں کیا ہے "يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواكُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ " (البقرة ١٨٣) "اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کر دئے گئے جس طرح تمسے پہلے لوگوں پر فرض کئے گئے تھے تاکہ تم متقی بن جاؤ" یعنی روزے کا مقصد ہے کہ انسان اللہ سے ڈرنے اور خوف کھانے والابن جائے، وہ تقوی کی صفت سے متصف ہوجائے۔ قرآن کریم کی اصطلاح میں تقوی کا معنی یہ ہے کہ انسان اپنے شب و روز کو اللہکی مقرر کردہ حدود کے اندر رہ کر بسر کرے، اور دل کی گہرائیوں سے اس بات سے ڈرتا رہے کہ اگر اس نے کبھی ان حدود کو توڑا تواس کی پاداش سے اللہ کے سوا کوئی اسے بچانے والا نہیں ہوسکتا۔ پس حقیقی روز ہ وہی ہے جو آدمی کو تقوی کی صفت سےمتصف کردے، اس کی پوری زند گی کتاب وسنت کی روشنی میں بسر ہونے لگے، وہ حلال کو حلال اور حرام کو حرام سمجھنے لگے اللہکے تمام احکامات کو بجالائے اور معصیت و نافرمانی کے کاموں سے دور رہے۔ اس کی حالت یہ نہ ہو کہ روزہ کی حالت میں پانی کےچند قطرات کو حلق سے نیچے اتارنے کو تو حرام سمجھے مگر دوسری طرف لوگوں کے ناحق اموال کو گٹ گٹ اپنے حلق سے نیچےاتارنے میں کچھ حرج خیال نہ کرے، حلال اور حرام میں تمیز روا نہ رکھے۔دھوکہ ، خیانت، رشوت، غصب اور چوری وغیرہ کے ذریعہاپنی جیبیں موٹی کرنے کی فکر میں رہے، ناپ تول میں کمی کرکے جھوٹی جھوٹی قسمیں کھا کر اپنی تجارت چمکانے میں لگا رہے۔اس کی حالت یہ ہو کہ روزہ کی حالت میں کھانے کا ایک نوالہ پیٹ میں اتارنے کو تو گناہ عظیم سمجھے مگر عام زندگی میں غیبتکرکے اپنے مسلمان بھائیوں کے گوشت سے اپنا پیٹ بھرنے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہ کرے،اور دوسروں کے عیوب وبرائیوں کوتلاش کرنے اور مزے لے لے کر اس کا تذکرہ کرنےکو اپنی فرصت کے اوقات کا اھم ترین مشغلہ بنا لے، چغل خوری کے ذریعہ معاشرہکے امن وامان کو تباہ کرنے پر تلا رہے۔ تو یاد رہے ایسا روزہ حقیقی روزہ نہیں بلکہ وہ ایک فاقہ ہے محض بھوک اور پیاس ہے جو اللہتعالی کو چنداں مطلوب نہیں۔ اسی نقطہ کی طرف نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان الفاظ میں اشارہ کیا ہے :" رب صائم ليس لهمن صيامه إلا الجوع ورب قائم ليس له من قيامه إلا السهر" (صحيح الترغيب ١٠٨٣)
كتنے روزے دار ہیں جن کو روزہ سے بھوک اور پیاس کے کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا اور کتنے تہجدگزار ہیں جن کو نماز تہجد سےبیداری کے سوا کچھ فائدہ نہیں۔ ذرا سوچئے تو سہی! کتنا بدنصیب ہے وہ مزدور جو دن بھر سڑکوں پر رکشا چلائے اور اس کا پوراجسم تھکن سے چور چور ہو جائے مگر شام کے وقت اس کی جیب بالکل خالی رہے۔ کتنا بدنصیب ہے وہ بیمار جو مہینہ بھر لگاتاردوائی استعمال کرے مگر اسے افاقہ ہونے کے بجائے مزید بیماری میں اضافہ ہوجائے۔ ایسے ہی کتنا بد نصیب ہے وہ روزے دار جو دنبھوک و پیاس کی مشقت برداشت کرے اس کے باوجود اسے صرف بھوکا اور پیاسا رہنے کے سوا کچھ حاصل نہ ہو۔ ایسی روزے دارکی بابت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : " من لم يدع قول الزور والعمل به فليس لله حاجة في أن يدع طعامه وشرابه" (صحيح البخاري ١٩٠٣) " جس كسي نے (روزے کی حالت میں )جھوٹ بولنا اور جھوٹ پر عمل کرنا نہ چھوڑے تو وہ جان لے کہ اللہکو اس بات کی کوئی ضرورت نہ تھی کہ وہ شخص اپنا کھانا اور پینا چھوڑ دے۔ صحیح مسلم کی روایت کے مطابق نبی کریم صلیاللہ علیہ وسلم نے روزہ دار کو یہ ہدایت دی ہے: "فإذا کان صوم أحدکم فلا یرفث ولا یصخب فإن سابه أحد أو قاتله فليقل إني صائم" (صحيح البخاري ١٠٩٤)
" پس تم میں سے کسی کا روزہ ہو تو چاہئے کہ وہ نہ بد کلامی کرے نہ شور مچائے اور اگر اس سے کوئی گالی گلوج کرنے یا لڑنے پراتر آئےتو اس سے کہے کہ میں روزے سے ہوں"
ان تعلیمات نبویہ کی روشنی ہمارے لئے ضروری ہے کہ اپنی زبان اور دیگر اعضاء وجوارح کی حفاظت کرتے ہوئے روزے رکھیں، اورمعصیت کا ارتکاب اور حرام کمائی کے ذریعہ اسے بےاثر و بے وقعت ہونے سے بچائیں۔
Comments
Post a Comment